اَلاِبِلِ - Qurani Encyclopedia

تازہ ترین

Post Top Ad

Post Top Ad

اَلاِبِلِ

اَلاِبِلِ -


AL,IBIL۔ اس لفظ کے لغوی معنی اونٹ کے ہیں۔ قرآن مجید میں یہ لفظ صرف دو بار آیاہے۔

ترجمہ: کیا تم نظر نہیں کرتے اونٹوں (الْاِبِلِ)  پر کیسے تخلیق ہوئے۔ ( سورہ غاشیہ (88):17) 

ترجمہ: اور پیدا کئے اونٹ (الْاِبِلِ)  میں سے دو… (سورہ الانعام (6):144)

اول الذکر قرآنی آیت میں اﷲ تعالیٰ نے اونٹ کی تخلیق پر تفکر کی دعوت بھی دی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اونٹ ایک لمبے قد اور بڑے جثّے والاممالیہ اور صحرائی جانور ہے۔ اسے عام طور پر صحرا کا جہاز بھی کہتے ہیں۔ لیکن یہ معلومات محض جزوی ہیں اور اونٹ کی تخلیق میں کام کرنے والے قدرت کے حیرت انگیز فارمولوں کا انکشاف نہیں کرتیں۔ آئیے ہم ان فارمولوں کا مختصر اً جائزہ لیتے ہیں۔

اونٹ جسے انگریزی میں کیملCamel، فارسی میں ’’ شتر‘‘ سندھی میں ’’ اٹ‘‘ اور عربی میں ’’ ابل، جمن، بعیر، رکاب، الھیم‘‘ وغیرہ کے ناموں سے پکاراجاتاہے، سائنسی درجہ بندی کے حوالے سے اس کا تعلق Cameludae فیملی سے ہے جبکہ اس کی نوع کو Camelus  کہاجاتاہے۔ بنیادی طور پر اونٹ کی دو اقسام ہیں۔

1۔ عربی اونٹ

2۔ بیکٹیرین اونٹ

سائنسی لحاظ سے عربی اونٹ کو Camelus Dromedarius  جبکہ بیکٹیرین اونٹ کو Camelus Bacterianus  اونٹ کہا جاتاہے۔ عربی اونٹ کا ایک کوہان ہوتاہے، اس کا قد اس کے کندھوں تک 7  فٹ ہوتا ہے جبکہ اس کا کوہان ایک فٹ تک بلند ہوتاہے۔ یہ اپنی چند خوبیوں کی وجہ سے صحرا میں بآسانی زندگی بسر کرسکتا ہے۔ اس کی پہلی خوبی یہ ہے کہ صحرا میں اگنے والے کانٹے دار پودے بآسانی چبا کر کھا جاتا ہے اور لق و دق صحرا میں بھی جہاں سبزے کا نام و نشان نہیں ہوتا اونٹ کے لئے غذا کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ اونٹ کا نظام ہضم قدرت نے کچھ اس طرح تشکیل دیاہے کہ صحرائی پودوں اور کانٹوں کے سیلولوز Celluloseکاربو ہائیڈریٹس میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ دوسرے اس کے پیر چوڑے اور پتلے ہوتے ہیں جن کی وجہ سے یہ ریت پر نہایت آرام سے چل سکتاہے۔ تیسری اس کے سینے سے پاؤں تک کی جلد… جس کی وجہ سے وہ تپتی ریت اور دھوپ میں بغیر کسی تکلیف کے سفر کرسکتاہے۔ چوتھی خصوصیت اونٹ کی یہ ہے کہ اونٹ صحرا میں اُڑنے والی ریت سے بچاؤ کے لئے اپنے نتھنے طویل وقفے کے لئے بند کرسکتاہے۔ اس کی لمبی دوہری پلکیں صحرا میں تیز ہواؤں سے ہر طرف اُڑنے والی ریت سے اس کی آنکھوں کومحفوظ رکھتی ہیں۔

دو کوہان والا بیکٹیرین اونٹ پتھریلے اور قدرے ٹھنڈے علاقوں میں بھی رہ سکتاہے۔ اس کی جسامت قدرے چھوٹی اور اس کا جسم گوشت سے بھرا ہوتاہے۔ بیکٹیرین اونٹ کا قد اس کے کندھوں تک پانچ فٹ بلند ہوتاہے۔ اس قسم کے اونٹوں کے پاؤں سخت اور بال لمبے اور خوش وضع ہوتے ہیں۔ یہ عمومًا وسطی ایشیاء سے منگولیا تک کے نیم صحرائی علاقوں میں پائے جاتے ہیں اور جنوب مغربی منگولیا اور شمال مغربی چین میں بھی بڑی تعداد میں ملتے ہیں۔ تبت کی سطح مرتفع کے سرد موسم میں بھی آپ کو بیکٹیرین اونٹ نظر آئیں گے۔

اونٹ کا کوہان چربی اور گوشت سے پُر ہوتاہے۔ یہ جگہ ایک آدمی کی نشست کے لئے کافی ہے لیکن اگر کاٹھی باندھ دی جائے تو تین سے چار آدمی بھی سوار ہوسکتے ہیں۔ عربی اونٹ 161کلو میٹر فی دن کی رفتار سے سفر کرتا ہے۔ اونٹ کے اندر ایک اور اضافی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ کئی دنوں تک پانی پئیے بغیر نہ صرف زندہ رہ سکتاہے بلکہ صحرا کے دشوار گزار ماحول میں مسافت بھی طے کرسکتاہے۔ یہی اس جانور کی خصوصیت ہے جو اسے دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اس حوالے سے عام تصور یہ ہے کہ اونٹ خوراک اور پانی کا ذخیرہ اپنے کوہان میں جمع کرلیتاہے یا کوہان میں جمع شدہ چربی کوجلا کر اپنی غذا کا سامان کرتاہے۔

ان دونوں تصورات میں سائنسی لحاظ سے صداقت نظر نہیں آتی۔ کیونکہ مالیکیولز تمام جانوروں کے جسم میں سات سے چودہ دنوں تک موجود رہتے ہیں اور اگر ان مالیکیولز کی جگہ دوسرے مالیکیولز نہیں لیتے تو پانی کی شدید قلت Dehydration کے باعث موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ یہ قدرت کا کرشمہ ہے کہ اونٹ کے اندر پانی  کا مالیکیول اپنی آئیونی Ionic  خصوصیت کی وجہ سے پچاس دنوں تک محفوظ رہتاہے اور پانی میسر آنے پر اونٹ بیک وقت 25سے 30گیلن پانی بیک وقت پی جاتاہے۔ طویل فاقوں کے درمیان جبکہ اس کا وزن پچیس فیصد تک گھٹ چکا ہوتاہے اس کے باوجود بھی اونٹ کی کار کردگی میں کوئی فرق دیکھنے میں نہیں آتا۔ موسم گرما میں اس کا جسمانی درجہ حرارت 41درجے سینٹی گریڈ تک ہوجاتاہے۔ یوں ماحول کے درجہ حرارت میں زیادہ فرق نہ ہونے کے سبب اونٹ کو موسم گرما کی شدت متاثر نہیں کرتی۔   دوسری اہم بات یہ ہے کہ اونٹ کے جسم سے پسینے اور پیشاب کے ذریعے پانی کااخراج بہت کمہوتا ہے اور اس کا فضلہ بھی سخت گٹھلیوں یا مینگنی کی صورت میں ہوتاہے لیکن پیشاب کے ذریعے پانی کا کم اخراج اس بات کا متقاضی ہے کہ اونٹ کے گردوں کی بافتیں Histologyدوسرے ممالیہ کے مقابلے میں مختلف ہوں خاص طور پر گردے کی باریک نالیوں Nephronکے وہ حصے جہاں سے پانی دوبارہ جذب ہوکر خون میں شامل ہوجاتاہے۔ اونٹ کے خون کے سرخ خلئے ( R.B.C's) بھی دوسرے ممالیہ سے مختلف پائے گئے ہیں جو گول کے بجائے بیضوی شکل کے ہوتے ہیں۔ اونٹ کی عجیب الخلقت حیثیت اس پر گہرے تفکر کے بعد ہمارے سامنے آتی ہے اور اس پر غورو فکر کرنے کی اﷲتعالیٰ نے قرآن مجید میں تاکید فرمائی ہے۔

اونٹ کی چال دیگر سواری کے جانور مثلاً گھوڑا، خچر وغیرہ سے مختلف ہوتی ہے۔ دیگر جانور جب چلتے یا دوڑتے ہیں تو اگلے پیروں میں دایاں اور پچھلے پیروں میں سے بایاں پیر آگے بڑھتا ہے بقیہ دونوں پیر اس وقت زمین پر لٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ اونٹ جب چلتاہے تو اگلے اور پچھلے پیروں میں ایک ہی طرف کے پیر آگے بڑھتے ہیں جبکہ دوسری جانب دونوں پیر اس کے تمام بوجھ کو سہارتے ہیں۔ اونٹ کے پیروں کا پچھلا حصہ زمین سے اوپر رہتاہے جو اس کی چال کو لچک دار بنادیتاہے۔ اس کی ایڑیاں ذرا  اوپر کی طرف واقع ہیں اس کے سخت تلوؤں کا پھیلاؤ اس کی چال کو نہ صرف مستحکم بناتا ہے بلکہ اسے ریگستان کی ریت میں دھنسنے سے بھی بچاتاہے۔ اونٹ کی گردن لمبی اور خاصی خمدار ہوتی ہے۔ اس کا پچھلا حصہ جو جسم سے متصل ہے زیادہ چوڑا  اور وزنی ہوتاہے۔ اگر اس کا فرضی کراس سیکشن لیا جائے تو یہ چوکھٹے نما دکھائی دے گا اور نچلی جانب سے زیادہ چوڑا ہوگا۔ یہ صورت بھی کسی جانور کی گردن میں نہیں ملے گی۔ جب ایک ہی جانب کے اگلے پچھلے پیر آگے بڑھتے ہیں تو سر بھی ہچکولے کھاتاہوا آگے کی طرف آتاہے لیکن جوں ہی یہ پیر زمین سے دوبارہ لگتے ہیں اور دوسری جانب کے پیر بھی بمشکل زمین سے اٹھ پاتے ہیں تو گردن کا پچھلا حصہ ایک خمدار ہچکولے کے ساتھ جسم سے خاصا نزدیک ہوجاتاہے۔ یوں اونٹ کا سارا وزن اس کے مرکز ثقل پر منتقل ہوتا رہتاہے اور اونٹ گرنے سے محفوظ رہتاہے۔ اونٹ کا بے ڈول جسم ہی اسے سخت ماحول میں قائم و دائم رکھتاہے۔ شدید آندھیوں میں اونٹ بیٹھ جاتا ہے اور گردن بلند رکھتاہے، بیٹھتے وقت یہ اہرام نما شکل اختیار کرلیتاہے اور ریت میں مکمل طور پر دبنے سے پہلے ہی کھڑے ہوکر ساری ریت گرا کر دوبارہ بیٹھ جاتاہے۔

غرض اونٹ اﷲتعالیٰ کی بے شمار نشانیوں میں سے ایک ایسی نشانی ہے جسے اﷲ نے ایسا عجیب الخلقت بنایا ہے کہ سائنسدان آج تک حیوانوں کی مختلف درجہ بندی میں سے کسی درجے میںاسے فٹ نہیں کرپائے ہیں۔ کیونکہ درجہ بندی کے اس عمل میںبہت سی باتوں کا خیال رکھنا پڑتاہے جس میں Anatomical Similarity   بہت اہم ہیں۔ اونٹ کے پیر، گردن، چال، آنکھیں، کان، دم، دانتوںکی ترتیب، معدہ، گردے اور اس کی عادات یا دداشت وغیرہ تمام جانوروں سے منفرد ہیں۔


[ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ : مارچ 2000ء ]

============================================
[المعانی]

إبِلُ [عام][اسم] اونٹ اور اونٹنیاں (یہ لفظ مونث ہے اور جمع کے لئے ہے اس کا مفرد نہیں ج:ال
أَبَلَت الإبلُ ( ك أَبْلاً وَ اُبولا [عام][فعل] اونٹوں کی کثرت ہونا (2)اونٹوں کا جنگلی ہونا (3)اونٹوں کا تر چارے کی بنا پر پانی سے بے نیازہونا
أَبِلَت الإبل ( س أَبَلاً [عام][فعل] ابلت
أَبِلَت فلان، ابالة و ابالة [عام][فعل] اونٹوں کی نگرانی و دیکھ بھال میں ماہر ہونا ھو ابل
تَأَبَّلَ فلانٌ الإبلَ [عام][فعل] اونٹوں کو چھانٹنا، منتخب کرنا

اصلی الفاظمعنیٰ
تَأبَّل الإبلُ [عام][فعل] اونٹوں کا تازہ گھاس کھا کر پانی سے بے نیاز ہونا
هَضَّتِ الِابْلُ هَضاً وهَضَّت الِابِل السَّيْر [عام][فعل] اونٹوں کا تیز چلنا
أبلت الرجل أبلا و أبالة [عام][فعل] عبادت گزار بننا، راہب بننا، عبادت کیلئے گوشہ نشین ہونا
أَبِلَت فلانا أَبَلاً [عام][فعل] كسی كو اونٹ دينا
آبَلَ، اِيْبَالاً [عام][فعل] زیادہ اونٹوں والاہونا
أبَّلَ الإبلَ [عام][فعل] اونٹوں کو چھانٹ کر جمع کرنا (2) موٹا کرنا
ائْتَبَلَ [عام][فعل] اونٹ چرانے کا پیشہ اختیار کرنا
أبَابِيل [عام][اسم] غول کےغول، جھنڈ کے جھنڈ ۔ کثرت بتانے کیلئے اتا ہے  قرآن كريم میں ہے ﴿وأرسَلَ عَلَیْہِم طَیْراً أبَابِیل﴾ (جمع ہے اس کا واحد نہیں )
إبِلَان [عام][اسم] اونٹوں کے دو گلے
أبِيْل [عام][اسم] لاٹھی (2) راہب



===========================================

اَلْاِبِلُ۔ اونٹ کا گلہ۔ اس کا واجد اس مادہ سے نہیں آتا قرآن میں ہے : (مِنَ الۡاِبِلِ اثۡنَیۡنِ ) (۶:۱۴۴) اور دو انٹوں میں سے۔ او رآیت کریمہ : (اَفَلَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَی الۡاِبِلِ کَیۡفَ خُلِقَتۡ ) (۸۸:۱۷) کیا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے (عجیب) پیدا کیے گئے ہیں۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اِبِلٌ بمعنی سحاب ہے یہ قول صرف معنی تشبیہ کے اعتبار سے صحیح ہوسکتا ہے کیونکہ کثرت اسفار میں بادل اور اونٹ میں یک گونہ مشابہت پائی جاتی ہے۔ (1) اَبَلَ الْوحشی ابولا واَبِلَ اَبْلاً۔ وحشی جانور کا اونٹ کی طرح پانی سے بے نیاز ہونا۔ تَابَّلَ الرجل عن امرء تہٖ۔ عورت سے مقاربت ترک کرنا اَبَّلَ الرجل۔ بہت اونٹوں والا فلاں لا یأبل فلاں اونٹ پر جم کر سوار نہیں ہوسکتا۔ رجلٌ اٰبلٌ واَبِلٌ اونٹوں کا اچھی طرح انتقام کرنے والا ابل مؤبَّلَۃ اکٹھے کیے ہوئے اونٹ الاِبّالۃ۔ لکڑیوں کا گٹھا۔ (2) او رآیت کریمہ : (وَّ اَرۡسَلَ عَلَیۡہِمۡ طَیۡرًا اَبَابِیۡلَ ) (۱۰۵:۳) میں اَبَابِیل کے معنی یہ ہیں کہ ان پر پرندے اونٹوں کی مختلف ٹکڑیوں کی طرح قطار درقطار بھیجے گئے اور ابابیل کا واحد اِبِّیْلٌ ہے۔ (3)

[مفردات القرآن ۔ راغب اصفہانی]


==========================

*

قرآن میں  لفظ اَلاِبِلِ

*
*

تعداد   لفظ    سورۂ    آیت

  1.  الْاِبِلِ سورة الأنعام(6) 144
  2. الْاِبِلِ سورة الغاشية(88) 17
*






کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad

پیج