أبّاً -ABBAیہ لفظ اَلاَب ّسے نکلا ہے جس کے معنی دوب گھاس کے ہیں۔ یہ لفظ پورے قرآن میں صرف ایک آیت میں آیا ہے۔ قرآن مجید کی سورہ عبس آیت 31 میں ہی اس کا تذکرہ ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَّ فَاکِہَۃً وَّ اَبًّا Oمَّتَاعًا لَّکُمۡ وَ لِاَنۡعَامِکُمۡ O
ترجمہ: اور ہر قسم کا پھل اور دوب، فائدہ اٹھانے کے لئے ہے، تمہارے اور تمہارے مویشیوں کے لئے۔ (سورہ عبس:31.32)
جدید وقدیم تحقیق کے مطابق یہ گھاس بہت سے امراض میں مفید ہے۔ دوب کو پنجابی زبان میں’’دب‘‘ فارسی میں’’ مَرغ‘‘ بنگالی میں ’’ دُربہ‘‘، تامل میں ’’اردگو‘‘، سندھی میں ’’چھبر ڈبھہ‘‘ اور انگریزی زبان میں Couch Grassکہتے ہیں ۔
دوب ایک مشہور گھاس ہے جسے مویشی خصوصاً گھوڑا بہت شوق سے کھاتاہے۔ دوب بے شمار فوائد کا مرکب ہے۔ پرانے زمانے کے حکماء دوب Couch Grass کو پیس کر اور گرم کر کے ورم اور درد کے ازالہ کے لئے استعمال کراتے تھے۔ دوب کو جَو کے ہمراہ پیس کر سر درد میں استعما ل کیاجائے تو درد سے نجات مل جاتی ہے۔ دوب کو ہلدی اور چاول کے ہمراہ پیس کر اور روغن چنبیلی کے ہمراہ اچھی طرح ملا کر لگانے سے چیچک کے داغ میں بھی فائدہ دیکھا گیاہے۔ ہیضے کی تکلیف میں دوب کو چند کالی مرچوں کے ساتھ پیس کر دیاجائے تو مریض کو تسکین پہنچتی ہے۔ دوب کا خاص فائدہ ورم کو تحلیل کرنا اور زہریلے اثرات کو دور کرنا ہے۔
==================================================
أَبُّ
[اسم] تر یا خشک گھاس، چارہ ۔ قرآن كريم میں ہے: ﴿وفاکھۃ وأبّاً﴾۔ فلَان رَاع لَهُ الْحبّ وطاع لَهُ الْأَب زكا زرعه واتسع مرعاه اس کی کی کھیتی سر سبز اور چراگاہ کشادہ ہو گئی (2) باپ بمعنی أب
[المعانی]
اَلْاَبُّ : اس گھاس کو کہتے ہیں جو جانوروں کے چرنے اور کٹنے کے لیے بالکل تیار ہو یہ اَبَّ لِکَذَا اَبًّا وَاَبَابَۃً وَاَبَابًا کے محاورہ سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی کوئی کام کرنے کے لیے تیار ہو جاتا کے ہیں، جیسے محاورہ ہے۔ اَبَّ اِلٰی وَطَنِہٖ وطن کا مشتاق ہوکر جانے کے لیے تیار ہوگیا۔ اَبَّ لِسَیْفِہٖ تلوار سونتنے کو مستعد ہوجانا او راسی سے اِبَّانُ ذٰلِکَ کی ترکیب ہے جس میں اِبَّانَ بروزن فِعْلَانَ ہے، (1) یعنی وہ زمانہ جو کسی کام کرنے کے لیے بالکل مناسب ہو۔ قرآن میں ہے : (وَّ فَاکِہَۃً وَّ اَبًّا ) (۸۰:۳۱) اور میوے اور چارہ۔
[مفردات القرآن ۔ راغب اصفہانی]
==========================
| * | قرآن میں لفظ أ بَا | * |
|---|---|---|
| * | تعداد لفظ سورۂ آیت
|



کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں