اِبرَاھِیم -IBRAHIM ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام مبارک کالغوی مطلب’’ رحم دل باپ‘‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دوست اور بر گزیدہ پیغمبر کا تذکرہ آخری الہامی کتاب قرآن مجید کی مختلف آیات میں69 مرتبہ فرمایاہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام آج سے چار ہزار سال قبل پیداہوئے۔ جس شہر میں آپ ؑ کی ولادت ہوئی وہ سومیریوں کا شہر ’’ اُر‘‘ تھا، اس زمانے میں نمرود(جسے قدیم زبان میں اُرنمو کہتے تھے) کی حکومت تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد آزر (جنہیں بائبل میں تارح Te'rahکہاگیاہے) اُ ر کے سب سے بڑے پروہت (مذہبی پیشوا) تھے۔ سلطنت میں انہیں نمرود کے مذہبی مشیر کا عہدہ حاصل تھا۔ مذہبی پیشواؤںنے مطلق العّنان بادشاہ کی حکمرانی کو تحفظ اور تقدس دے رکھاتھا اور اس کے بدلے میں ملک و قوم کی غصب شدہ دولت میں سے انہیں معقول حصہ بھی ملاکرتاتھا۔ ایک دوسرے کے جرائم سے چشم پوشی کی بنیاد پر مملکت کا سسٹم چل رہاتھا۔ ظلم اور شرک کی گندگی میںلتھڑے ہوئے اس معاشرے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے توحید کی مشعل روشن کی۔ آپ ؑ کی روشن کردہ اس مشعل سے بالآخر چہار دانگ عالم میں روشنی پھیل گئی۔
حضرت ابراہیم ؑکی شخصیت کو کسی نہ کسی نام سے تقریباً تمام مذاہب میں قبول کیاگیاہے اور تقریباً تمام مذاہب آپ ؑ کو نبی، پیغمبر اور اوتار تسلیم کرتے ہیں۔ آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَا کَانَ اِبۡرٰہِیۡمُ یَہُوۡدِیًّا وَّ لَا نَصۡرَانِیًّا وَّ لٰکِنۡ کَانَ حَنِیۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ O
اِنَّ اَوۡلَی النَّاسِ بِاِبۡرٰہِیۡمَ لَلَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ وَ ہٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ O
ترجمہ: ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ حنیف اور مسلم تھے اور مشرکوں سے ہر گز نہ تھے۔ سب سے زیادہ یگانگت اور نزدیکی ابراہیم ؑ سے ان لوگوں کو ہے جنہوں نے اُ ن کی اور اِس نبی (محمدﷺ)کی پیروی کی اور ایمان والے لوگ۔ اور اللہ تو ایمان والوںکا ہی دوست ہے۔ (سورہ آل عمران:67-68)
قرآن میں آپ ؑ کا نام ابراہیم ؑ ، بائبل میں ابرام اور ابراہام Abrahamاور ہندوؤں کی مقدس کتاب بھوشیہ پران میں بھی آپ ؑ کا نام ابرام درج ہے۔ اس کے علاوہ ہندوؤں کے مقدس قصے رامائن کے واقعات اور حضرت ابراہیم ؑ کے واقعات میں بعض جگہ خاصی مما ثلت پائی جاتی ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حالاتِ زندگی تاریخی کتابوں کے مطابق:
2160ق م…… حضرت ابراہیم ؑ کی عراق کے قدیم شہر اُر Urمیں پیدائش
2140ق م…… حضرت ابراہیم ؑ کاحضرت سارہ ؑ سے عقد۔ آپ ؑ کی خفیہ تبلیغ اور بت شکنی۔ آپ ؑ کے بھتیجے حضرت لوطؑ کی پیدائش
2120ق م…… حضرت ابراہیم ؑ کا اعلانیہ توحیدی مشن کی تبلیغ کا آغاز۔ نمرود سے مذاکرہ پھر حاران ہجرت
2100ق م…… حاران سے مصر ہجرت۔ حضرت ہاجرہ ؑ کا حضرت ابرہیم ؑ سے عقد
2080ق م…… حضرت ابراہیم ؑ کا کنعان میں قیام اور حضرت لوط ؑ کی سدوم ہجرت
2074ق م…… حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش۔ حضرت ہاجرہ ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ حکم خداوندی کے مطابق صحرائے عرب میں
2060ق م…… حضرت سارہ ؑ سے حضرت اسحقؑ کی پیدائش۔ فطرت سے بغاوت کے نتیجے میں قوم سدوم کی تباہی
2053ق م…… حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی اور خانہ کعبہ کی تعمیر
2023ق م…… حضرت سارہ ؑ کی وفات
2020ق م…… حضرت اسحق ؑ کا حضرت ربقہ سے عقد
2000ق م…… حضرت ربقہ سے حضرت ابراہیم ؑ کے جڑواں پوتوں، حضرت یعقوب ؑ اور عیسو اَ دُ م کی پیدائش
1985ق م…… حضرت ابراہیم ؑ کی وفات
==========================
| * | قرآن میں لفظ اِبرَاھِیم تعداد لفظ سورۂ آیت | * |
|---|---|---|
| * |
|
* |

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں