أ بَدًا - Qurani Encyclopedia

تازہ ترین

Post Top Ad

Post Top Ad

أ بَدًا

أ بَدًا -ABADA یہ لفظ قرآن مجید میں کُل  28مرتبہ مختلف آیات میں استعمال ہواہے۔ اس لفظ کے لغوی معنی ہمیشگی، ابدالآ باد اور دوام کے ہیں۔ انگریزی میں اسے،  Forever ،  Alwaysاور Indefinite Timeکہتے ہیں۔

قَالَ اللّٰہُ ہٰذَا یَوۡمُ یَنۡفَعُ الصّٰدِقِیۡنَ صِدۡقُہُمۡ ؕ لَہُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ O

ترجمہ: فرمایا اللہ نے یہ وہ دن ہے جب نفع دے گا سچ بولنے والوں کو۔ ان کے لئے جنت ہے جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور اسی میں رہیں گے وہ ہمیشہ، اللہ راضی ہوا  اُن سے اور وہ راضی ہوئے اس سے، یہی ہے بڑی مراد ملنی۔(سورہ مائدہ: 119)

قرآن مجید اور سابقہ تمام الہامی کتابوں کے گہرے مطالعے سے یہ علم حاصل ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کُن کہا اور کائنات اپنے تمام اجزاء کے ساتھ تشکیل پاگئی۔  کائنات نے ابتدائی لمحات سے ہی اپنے سفر کا آغاز کردیا۔ یہ سفر کئی مرحلوں سے گزرتاہوا  ابد کے مقام پرپہنچے گا اور ابد کے بعد کائنات کُن سے قبل کے مرحلے میں داخل ہوجائے گی۔

علمائے باطن فرماتے ہیں’’ یہ ساری کائنات ایک مسافرخانہ ہے، عالم ارواح سے سفر شروع ہوتاہے پھر برزخ سے نکلتا ہے اور عالم ناسوت میں داخل ہوجاتا ہے۔عالم ناسوت سے گزر کر عالم اعراف میں پہنچ جاتا ہے۔ عالم اعراف میں مسافرانہ زندگی گزارکر حشر یوم الحساب کی بادہ پیمائی کر کے جنت کو اپنا مسکن بنالیتاہے۔ عظیم الشان اور لامحدود رقبے پر آباد نور علیٰ نور جنت Heavencity   میں غیر معینہ مدت تک قیام کر کے مقام ابد میں حضور ی حاصل کرلیتاہے‘‘۔


==================================================



أَبَد  : [فعل] زمانہ ج:أباد و أبود (2) ہمیشگی(3) لازوال. أبد الآبدین، أبد الأباد کبھی بھی-منفی استعمال کیا جاتاہے جیسے لا أفعل ذلك أبد الآبدین.''طال الأبدعلی لبد مثل ہے؛اس چیز کے بارے میں بولی جاتی ہے جس پر ایک طویل زمانہ گزر چکا ہے

أَبَد [قرآن] : کبھی

أَبَدَ الابِدِىن ، أبَدَ الاباد [عام] : [فعل] کبھی بھی، منفی استعمال کیا جاتاہے

أبِد الشَّيء [عام] : [فعل] دوام عطا کرنا، دوامی بنا دینا

أَبَدِيّ [عام] : [اسم] لازوال جس کی انتہا نہ ہو

[المعانی]



اَلْاَبَدُ : ایسے زمانہ دراز کے پھیلاؤ کو کہتے ہیں۔ جس کے لفظ زمان کی طرح ٹکڑے نہ کیے جاسکیں۔ یعنی جس طرح زَمَانَ کَذَا (فلاں زمانہ) کہا جاسکتا ہے اَبَدُ کَذَا نہیں بولتے، اس لحاظ سے اس کا تثنیہ اور جمع نہیں بننا چاہیے۔ اس لیے کہ اَبَدً تو ایک ہی مسلسل جاری رہنے والی مدت کا نام ہے جس کے متاویز اس جیسی کسی مدت کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا کہ اسے ملاکر اس کا تثنیہ بنایا جائے۔ قرآن میں ہے: (1) (خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا) (۹۸:۸) وہ ابدالاباد ان میں رہیں گے۔ لیکن بعض اوقات اسے ایک خاص مدت کے معنی میں لے کر اٰبَادٌ اس کی جمع بنالیتے ہیں جیساکہ اسم جنس کو بعض افراد کے لیے مختص کرکے اس کا تثنیہ اور جمع بنالیا جاتا ہے بعض علمائے لغت کا خیال ہے کہ اٰبَادٌ جمع مُوَلَّدْ ہے۔ خالص عرب کے کلام میں اس کا نشان نہیں ملتا اور اَبَدُ اَبْدٍ وَابَدُ اَبِیْدٍ (ہمیشہ ہمیشہ کے لیے) میں دوسرا لفظ محض تاکید کے لیے لایا جاتا ہے۔ تَاَبَّدَا الشَّیء کے اصل معنی تو کسی چیز کے ہمیشہ رہنے کے ہیں مگر کبھی عرصۂ دراز تک باقی رہنا مراد ہوتا ہے۔ اَلْاَبِدَۃ وحشی گائے والجمع اوابد (وحشی جانور تَاَبَّدَ الْبَعِیْرُ (وابد) اونٹ بدک کر وحشی جانور کی طرح بھاگ گیا۔ تَابَّدَ وَجْہُ فَلَانٍ وَاَبِدَ (اس کے چہرے پر گھبراہٹ او رپریشانی کے آثار نمایاں ہوئے) بعض کے نزدیک اس کے معنی غضب ناک ہونا بھی آتے ہیں۔ (2)

[مفردات القرآن ۔ راغب اصفہانی]

==========================

*
قرآن میں  لفظ أ بَدًا
*
*

تعداد   لفظ    سورۂ    آیت

      1. اَبَدًا سورة النساء(4) 57
      2. اَبَدًا سورة النساء(4) 122
      3. اَبَدًا سورة النساء(4) 169
      4. اَبَدًا سورة المائدة(5) 24
      5. اَبَدًا سورة المائدة(5) 119
      6. اَبَدًا سورة التوبة(9) 22
      7. اَبَدًا سورة التوبة(9) 83
      8. اَبَدًا سورة التوبة(9) 84
      9. اَبَدًا سورة التوبة(9) 100
      10. اَبَدًا سورة التوبة(9) 108
      11. اَبَدًا سورة الكهف(18) 3
      12. اَبَدًا سورة الكهف(18) 20
      13. اَبَدًا سورة الكهف(18) 35
      14. اَبَدًا سورة الكهف(18) 57
      15. اَبَدًا سورة النور(24) 4
      16. اَبَدًا سورة النور(24) 17
      17. اَبَدًا سورة النور(24) 21
      18. اَبَدًا سورة الأحزاب(33) 53
      19. اَبَدًا سورة الأحزاب(33) 65
      20. اَبَدًا سورة الفتح(48) 12
      21. اَبَدًا سورة الحشر(59) 11
      22. اَبَدًا سورة الممتحنة(60) 4
      23. اَبَدًا سورة التغابن(64) 9
      24. اَبَدًا سورة الطلاق(65) 11
      25. اَبَدًا سورة الجن(72) 23
      26. اَبَدًا سورة البينة(98) 8
      27. اَبَدًۢا سورة البقرة(2) 95
      28. اَبَدًۢا سورة الجمعة(62) 7
                                                          *


                                                          کوئی تبصرے نہیں:

                                                          ایک تبصرہ شائع کریں

                                                          Post Top Ad

                                                          پیج